ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مجھے حلف لینے دو پھر میں بتاؤں گا کہ راجیہ سبھا کی رکنیت کیوں قبول کی: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی

مجھے حلف لینے دو پھر میں بتاؤں گا کہ راجیہ سبھا کی رکنیت کیوں قبول کی: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی

Wed, 18 Mar 2020 10:30:19    S.O. News Service

نئی دہلی،18/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)  صدر رام ناتھ کووند نے پیر کو سابق چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) رنجن گوگوئی کا نام راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا۔اس کے بعد سے سیاسی گلیارے میں اتھل پتھل مچ گئی ہے۔

نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران سابق سی جے آئی رنجن گوگوئی کو اس معاملے پر بیان آیا ہے۔راجیہ سبھا کی رکنیت کے سوال پر سابق چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد اس کا جواب دینے کی بات کہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں کل یعنی بدھ کو دہلی جاؤں گا۔مجھے حلف برداری کرنے دیجئے، پھر تفصیل سے میڈیا کو بتاؤں گا کہ میں نے راجیہ سبھا کی رکنیت کیوں قبول کی۔

واضح رہے کہ سابق سی جے آئی رنجن گوگوئی 17 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ان ریٹائرڈ ہونے سے پہلے انہی کی صدارت میں بنی بنچ نے ایودھیا معاملے اور کچھ دیگر اہم معاملات میں فیصلہ سنایا تھا۔

وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے کو لے کر منگل کو دعوی کیا کہ گوگوئی عدلیہ اور خود کی ایمانداری سے سمجھوتہ کرنے کے لئے یاد کئے جائیں گے۔کپل سبل نے ٹویٹ کیاکہ جسٹس ایچ آر کھنہ اپنی ایمانداری، حکومت کے سامنے کھڑے ہونے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لئے یاد کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ جسٹس گوگوئی راجیہ سبھا جانے کی خاطر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے اور حکومت اور خود کی ایمانداری کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لئے یاد کئے جائیں گے۔


Share: